الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

آپ اپنی لڑکی کی شادی کہیں کر دیں“ سے طلاق

سوال

(نقل خط عظمت علی جو کہ ہندی میں ہے) جناب صوفی صاحب! السلام علیکم عرض ہے اور بات یہ ہے کہ جیسا کہ میں نے تمہارے ساتھ کیا وہ اچھا نہیں کیا اور میں بہت غلط آدمی نکلا، میں مجبور ہوں اب میں کچھ نہیں کر سکتا، اور یہ خط میں نے بمبئی سے ڈالا ہے، میں کل کو بمبئی سے پانچ سال کے لئے امریکہ جا رہا ہوں، تاکہ میں یہاں کے طوفان سے بچ سکوں، اب اگر آپ کو پانچ سال رکھنا ہو اور پیسوں کو بھی پانچ سال روکنا ہو ورنہ میری طرف سے اجازت ہے، آپ اپنی لڑکی کی شادی کہیں کر دیں، اور میرا خدا جانتا ہے میں نہیں چاہتا کہ کسی کی زندگی خراب کی…

جواب

شوہر کے خط کے ترجمہ میں یہ لفظ ہے، آپ اپنی لڑکی کی شادی کہیں کر دینا خط کے سیاق وسباق سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی نیت اس لفظ سے طلاق کی ہے، اس لئے اس لفظ سے ایک طلاق بائن ہوگئی، نیز جب کہ اس نے زبانی بھی طلاق دیدی ہے، تو اس میں شبہ کی کیا گنجائش ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو