الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

” مجھے لڑکی نہیں چاہئے سے طلاق

سوال

ایک نیک شریف لڑکی کی شادی چار سال قبل ہوئی تھی، لڑکا بدچلن، جواری، شرابی نکلا، بلکہ جب تیسری بار لڑکی سسرال گئی تو کچھ غیر مردوں کے ساتھ اس کے شوہر نے اس کو تنہا جانے کے لئے کہا تو لڑکی نے منع کر دیا، اس پر مار پیٹ کی، اس نے اس لڑکی کو بیچنا چاہا، جب اس کے والدین کو پتہ ہوا تو لڑکی کو اپنے گھر لے آئے، اب اپنے والدین کے یہاں ہے، زبانی اس کا شوہر چھوڑنے کے لئے کئی بار کہہ چکا ہے، کہ مجھ کو لڑکی نہیں چاہئے، جب اس کے باپ نے تحریری طلاق مانگی، تو ہزار روپیہ مانگتا ہے، باپ نہایت غریب آدمی ہے، اندیشہ ہے کہ کوئی خلاف شرع…

جواب

صرف اس لفظ سے کہ مجھے لڑکی نہیں چاہئے، کوئی طلاق نہیں ہوئی ہے اگر یہ لفظ کہا ہو کہ میں نے اپنی بیوی کو چھوڑ دیا تو طلاق ہوگئی ہے پھر اگر اس نے رجعت نہ کی ہو تو بعد عدت تین ماہواری لڑکی کا دوسری جگہ نکاح کر دینا درست ہو گا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو