الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تعلق نہیں سے طلاق

سوال

ایک جوان عورت جس کا شوہر عرصہ چھ سال سے گھر سے باہر رہتا ہے اور بیکار ہے بیوی کو میکہ چھوڑ رکھا ہے، نہ نان ونفقہ کی خبر لیتا ہے نہ اپنے گھر لاتا ہے، نہ ہی شوہر کے والدین بلاتے ہیں، جب وہ کبھی گھر آتا ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ اپنی بیوی کو کیوں نہیں بلاتا تو کہتا ہے کہ میں اس کو نہیں رکھنا چاہتا اور نہ ساری عمر اس سے تعلق رکھوں گا، نہ میرے پاس اس کے لئے نان ونفقہ کا خرچہ ہے، لوگ کہتے ہیں کہ جب تم اسے نہیں رکھ سکتے، اور نہ تم خرچ دے سکتے ہو نہ تمہارے والدین تو وہ اپنا کیسے گزارہ کرے، وہ کہتا ہے جب مجھے اس سے مدت سے تعلق…

جواب

اگر بنیت طلاق شوہر نے وہ الفاظ کہے ہیں جو کہ سوال میں مذکور ہیں، جیسا کہ ظاہراً معلوم ہوتا ہے، تو بعد عدت اس کی بیوی کو نکاح ثانی کی اجازت ہے، اگر کچھ شک ہو تو مزید توثیق کے لئے دوبارہ اس سے دریافت کر لیا جائے، کہ یہ دوسرا نکاح کرے یا نہیں؟ تمہاری بیوی تو نہیں رہی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو