ہمارے ساتھ نکاح ٹوٹ گیا“سے طلاق
سوال
واقعہ یوں ہے کہ ہم اور ہماری جٹھانی اور دونوں نند کہیں بیٹھنے گئے تھے، اور ساس گھر میں تھیں، ان سے پوچھ کر گئے تھے، جب ہمارے جیٹھ اور ہمارے شوہر دوکان پر سے گھر میں کوئی سامان وغیرہ لینے آئے، تو ان لوگوں نے پوچھا کہ یہ لوگ کہاں گئیں ہیں، ساس نے جواب دیا کہ فلاں جگہ بیٹھنے گئی ہیں، تو ہمارے جیٹھ اپنی بیوی پر غصہ ہوئے، اور ہمارے شوہر ہمارے اوپر غصہ ہوئے، اسی غصہ میں ہمارے شوہر نے کہہ دیا کہ اپنی بھتیجی کو یہاں سے لے جاؤ ہم نے طلاق دیدی تو ہماری پھوپھی یعنی ساس ان کے اوپر بہت غصہ ہوئیں، اور رو پیٹ کر رہ گئیں، جب ہم…
جواب
پہلی اور دوسری طلاق تو صاف ظاہر ہے، کیونکہ صریح لفظ طلاق کا ہے البتہ تیسری دفعہ یہ لفظ کہا ہے ”ہمارے ساتھ نکاح ٹوٹ گیا۔ یہ صریح لفظ نہیں، بلکہ کنایہ ہے، شوہر سے دریافت کیا جائے وہ اگر یہ کہے کہ ہاں طلاق کی نیت سے کہا ہے، جیسا کہ ظاہر معلوم ہوتا ہے، تو اس لفظ سے تیسری طلاق واقع ہو کر مغلظہ ہوگئی اب شوہر سے پردہ میں رہ کر آپ اپنی عدت پوری کریں، تین ماہواری ہے، اگر حمل ہو تو بچہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔