اب تجھ کو اجازت ہے” میرے چھوٹے بھائی سے نکاح کر لینا“سے طلاق
سوال
منکہ مسماۃ زينب النساء بنت رحم الہی میرا نکاح بوجہ لا علمی ایک شخص سے ہو گیا تھا کہ وہ ڈاکو تھا، اس سلسلہ میں اس کو بیس سال کی سزا ہو گئی تھی، جس کو عرصہ سات سال ہو گیا، جس وقت اس کو سزا ہوئی اس وقت اس نے مجھ سے یہ الفاظ کہے تھے کہ اب تجھ کو میری طرف سے اجازت ہے کہ میرے چھوٹے بھائی سے نکاح کر لینا، لہذا اسکے فرمان کے بموجب بیٹھی رہی، مگر اس کے چھوٹے بھائی نے میری طرف کوئی توجہ نہیں کی اور اپنا دوسری جگہ نکاح کر لیا، یہ میرا بیان حلفیہ ہے، اگر میں جھوٹ بولوں تو اس گناہ کی میں مرتکب ہوں گی، اس لئے درخواست ہے کہ میں…
جواب
اگر واقعہ اسی طرح ہے تو آپ کو دوسری جگہ شرعاً نکاح کی اجازت ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔