تم میری پسند نہیں“سے طلاق
سوال
ایک شخص نے اپنی بیوی کو یہ الفاظ کہے کہ میں اور شادی کروں گا، تم میری پسند نہیں ہو، تم کو نہیں رکھتا، تمہارا باپ تم کو اور خصم کرادے اور اسی وقت بوقت تکرار باہم زد وکوب کر کے اپنے برادر خورد کے ساتھ اس کے والد کے گھر بھیج دیا از روئے شرع شریف اس عورت پر طلاق بائن واقع ہوگئی یا نہیں۔
جواب
الفاظ مذکورہ میں کوئی لفظ صریح طلاق کا نہیں اور ہمارے عرف میں کنایہ بھی ان میں سے مستقلاً کوئی لفظ طلاق کے لئے مستعمل نہیں ہے البتہ مجموعہ الفاظ میں طلاق کا احتمال ضرور ہے، خاص کر پہلے دو لفظوں کے بعد تیسرے لفظ کا ذکر کرنا اور پھر اس پر چوتھے کو مرتب کرنا پس اگر تیسرا یا چوتھا لفظ وہاں کے عرف میں طلاق کے لئے مستعمل ہے تو نیت کرنے سے طلاق بائنہ واقع ہوگئی، اور جتنی نیت کی اتنی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔