الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

جہاں آپ کی لڑکیوں کی قدر ہو وہاں کرو“ سے طلاق

سوال

شوہر نے اپنے خسر کو خط میں لکھا۔ آپ کی لڑکیوں کی کوئی قدر نہیں ہوگی، خانپور میں، مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ آپ اتنے خراب آدمی ہیں، حنیف تو گیسور پور آئے گا نہیں، بس اتنے دن کا ہی رشتہ تھا میری طبیعت بالکل بھر گئی گیسور پور سے۔“ دوسرے خط میں لکھا۔ اب جہاں آپ کی لڑکیوں کی قدر ہو وہاں کرو، آپ کی لڑکیوں کی یہاں پر قدر نہیں ہوگی۔

جواب

جملہ اخیر” اب جہاں آپ کی لڑکیوں کی قدر ہو وہاں کرو“کا مطلب اگر یہ ہے کہ جہاں ان کی قدر ہو وہاں ان کا نکاح کرو اور بہ نیت طلاق یہ جملہ لکھا ہے تو اس سے ایک طلاق واقع ہوگی، اگر طرفین اگر رضا مند ہوں تو دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں، حلالہ کی ضرورت نہیں ہے اگر یہ بھی طلاق کی نیت سے نہیں کہا تو اس سے بھی طلاق نہیں ہوئی، بقیہ کوئی جملہ ایسا نہیں جس سے طلاق کا حکم کیا جائے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو