جس سے چاہو شادی کر لو سے طلاق
سوال
زید نے اپنی بیوی کو جلد رخصت کرنے کے لئے ایک پرچہ لکھا، تا کہ میکہ والے رخصت کرنے میں جلدی کریں، اس میں کچھ جملے ایسے استعمال کئے ہیں کہ بعض لوگ اس کو طلاق وتفویض اور بعض طلاق کنایہ کہتے ہیں، حالانکہ زید نے کوئی طلاق کی نیت نہیں کی ہے، جملے حسب ذیل ہیں، (۱) تم دوسروں کے ساتھ رہنا چاہتی ہو تو میری طرف سے آزاد ہو، جس سے چاہو شادی کرلو، (۲) ایک مہینہ میں تمہیں میری طرف دیکھنا حرام ہے، کیونکہ میں تمہارا کون ہوں گا، (۳) اب میں خود نہ رکھنے کے لئے منظور کرتا ہوں۔
جواب
اگر عورت نے دوسرے سے شادی کرنے کی خواہش کی تو اس پر طلاق بائن ہو گی اور نہ نہیں، جملہ ۳،۲، سے نہ تفویض طلاق ہوئی نہ کنایہ طلاق ہوئی ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔