الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

میری طرف سے بالکل ختم ہے“سے طلاق

سوال

زید نے چار مسلمانوں اور ایک پولیس کے سامنے یہ کہا کہ میں اپنی بیوی کو رکھنا نہیں چاہتا ہوں اور میری طرف سے بالکل ختم ہے، ان چار میں سے ایک شخص نے پوچھا کیا تمہاری طرف سے طلاق ہوگئی، اس پر زید نے خاموشی اختیار کی، پولیس مین نے کہا کہ کیا تو اپنی طرف سے بالکل ختم کر چکا ہے؟ اس بات پر زید نے ہاں میں گردن ہلا دی، اس پر سوال کیا کہ کیا اس میں ابھی کچھ گنجائش ہے؟

جواب

زید سے دریافت کر لیا جائے، اگر وہ کہے کہ میں نے رشتہ نکاح کو ختم نہیں کیا، تو اس کا قول معتبر ہوگا، بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس نے میل جول کو بند کیا ہے، طلاق نہیں دی، اسی وجہ سے جب اس سے طلاق کے متعلق دریافت کیا گیا تو اس نے خاموشی اختیار کی اقرار طلاق نہیں کیا، اب فیصلہ کی صورت یہی ہے کہ زید سے ہی دریافت کیا جائے، جو کچھ وہ طلاق کے متعلق بتائے اس کو لکھ کر پھر مسئلہ معلوم…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو