الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

Почему троекратное «дал джаваб» даёт лишь один баин-таляк

سوال

میرے شوہر زید نے بحالت غضب مجھ کو یہ الفاظ کہا کہ اگر شام تک میرے گھر نہ آئی تو میری طرف سے جواب ہے الخ۔ اس سوال کے جواب میں تتمہ جلد ثانی فتاوی امداد یہ میں لکھا ہے کہ یہ لفظ کہ میری طرف سے جواب ہے، عرفاً کنایہ ہے طلاق سے جیسا کہ اہلِ زبان سے مخفی نہیں، اور یہ کنایہ کے اقسام میں سے وہ قسم ہے، جس میں رد اور سب کا احتمال نہیں، بلکہ محض جواب میں مستعمل ہے اور یہ بھی ظاہر ہے اور اس قسم کا حکم یہ ہے کہ صرف حالت رضاء میں نیت شرط ہے، دلالت حال یعنی غضب اور مذاکرہ میں شرط نہیں کما صرح بہ الفقہاء اور صورت مسئولہ میں دلالت…

جواب

یہاں کے جواب میں اختصار تھا حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے جواب میں تفصیل ہے، خلاصہ ہر دو جواب کا ایک ہی ہے، وہ یہ ہے کہ یہ لفظ عرفاً کنایہ طلاق ہے، جب کہ بیوی کے حق میں بولا جائے، اس سے طلاق بائن ہوگی، اب رہ گئی یہ بات کہ اس لفظ کے تین دفعہ بولنے پر بھی تین طلاق کیوں نہیں ہوئی، تو اس کی وجہ درمختار میں موجود ہے: البائن لا يلحق البائن اھ جب ایک طلاق بائن واقع ہو جائے تو اس کے…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو