فیصلہ کر دیا“سے طلاق
سوال
زید نے اپنی بیوی کو بوجہ شک اور لوگوں کے کہنے سے بہتان لگایا اور کہا کہ وہیں جا کر رہو میں تم کو رکھنا نہیں چاہتا اور نکال دیا، عورت دوسرے مکان پر شام تک بیٹھی رہی، مگر پھر مسلمانوں نے ملادیا، عورت پھر شوہر کے پاس رہنے لگی چند روز کے بعد پھر جھگڑا ہوا اور شوہر نے کہا کہ میرا دل تم سے رجوع نہیں اور میری جائداد اور بچوں پر تمہارا کوئی حق نہیں تم رہو یا نہ رہو، تب عورت نے کہا کہ مجھ پر بھی تمہارا کوئی حق نہیں تم میرا فیصلہ کر دو، اس وقت مرد کہتا ہے کہ میری طرف سے فیصلہ ہے، اب تمہاری غرض ہو یا نہ ہو، اس وقت عورت نکل…
جواب
اگر زید نے مذکورہ الفاظ سے طلاق کی نیت کی تھی تو اس کی بیوی پر طلاق بائن پڑگئی، اور زید کے نکاح سے بالکل نکل گئی عدت کے گزرنے کے بعد جس سے چاہے نکاح کرلے: کنایتۂ مالم يوضع له اى الطلاق واحتمله وغيره فالكنايات لا تطلق بها قضاء الا بنية او دلالة الحال درم (درمختار على هامش شامی ص: ۴۶۲. ج: ۲)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔