الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

” بیوی نہیں رکھنی سے طلاق کا حکم

سوال

لڑکا اور اس کی بیوی (مدخول بہا) کا باپ دونوں یکجا بیٹھے ہوئے ہیں اور بیوی کے والد نے لڑکے سے کہہ دیا کہ اگر تجھے ہماری لڑکی رکھنی نہیں تو ہم اپنی لڑکی کو لے جائیں گے، اس کے جواب میں لڑکا کہتا ہے کہ نہیں رکھنی کچھ وقت کے بعد ایک دوسرا شخص لڑکے سے کہتا ہے کہ کچھ اور سوچ لو، اس کے جواب میں لڑکا کہتا ہے کہ میں نے تو کہہ دیا رکھنی نہیں اور اسی طرح کئی مرتبہ ہوتا ہے لڑکے کے نہیں رکھنی کہنے سے کیا طلاق واقع ہو جائے گی، اگر طلاق واقع ہو جائیگی تو رجعی ہوگی یا بائنہ، اور لڑکے کا یہ قول کہ کہد یا رکھنی نہیں یہ پہلے ہی کلام…

جواب

اگر شوہر نے طلاق کی نیت سے ایسا کہا ہے تو طلاق بائن واقع ہوگئی ہے پھر دوسری اور تیسری دفعہ کہنے سے کوئی جدید طلاق نہیں ہوئی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو