لفظ استعفیٰ سے طلاق
سوال
زید اپنی سسرال کو جاتا ہے وہاں پر سالے کے بارے میں تنازعہ ہوتا ہے، بات بڑھ جاتی ہے، اس وقت بیوی موجود نہیں تھی ساس نے کہا کہ تم کہاں کے شریف ہو میری لڑکی کو تمہارے بھائی بند تکالیف دیتے ہیں، تو اس پر زید نے کہا کہ میں اگر اصل کا ہوں گا، تو تمہاری لڑکی کو یہیں بھیج جاؤں گا، اس کے بعد زید وہاں سے چلا گیا، بعدہ دو ایک آدمیوں نے طعنہ کے طور پر کہا کہ اگر تم اصل کے ہو، تو دوسری شادی کر لینا، تو زید نے کہا کہ اگر ہم اصل کے ہوں گے، تو یہی کر جائیں گے، اور دوسری شادی کر لیں گے اور دو مرتبہ کہا کہ استعفیٰ استعفیٰ، لہذا ان…
جواب
زید کے الفاظ منقولہ میں سے کوئی لفظ ایسا نہیں جس کے معنی طلاق کے ہوں یا طلاق کے لئے ہمارے عرف میں بولا جاتا ہو، یا طلاق کا اس میں ایسا احتمال ہو جو معتبر ہو۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔