الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

میں تمہیں رکھنا نہیں چاہتا ہوں“سے طلاق

سوال

زید نے اپنی بیوی ہندہ کو ایک مجلس میں یہ کہا کہ” میں تمہیں رکھنا نہیں چاہتا ہوں اس بات کے پانچ گواہ ہیں مگر پنچایت میں زید اس بات کا انکار کرتا ہے، دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ بالا الفاظ سے طلاق واقع ہو گئی یا نہیں؟

جواب

اگر زید نے بیوی سے کہا ہو اور اس کو اقرار بھی ہو کہ اس نے اس طرح کہا ہے کہ میں تمہیں نہیں رکھنا چاہتا ہوں یا میں نہیں رکھوں گا، تو اس سے کوئی طلاق نہیں ہوئی، کیونکہ یہ خواہش کا اظہار ہے یا وعدہ ہے، اس سے طلاق نہیں ہوتی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو