الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اُدْخِلُوا کی جگہ اَدْخُلُوا اور ذال کی جگہ ظاء پڑھ دیا

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ نماز میں امام نے سورة نوح آیت مِمَّا خطیئاتهم اغرقوا فَأُدْخِلُوا نارًا کی جگہ فَادْخَلُوا پڑھا چونکہ معنی بدل گئے اس لئے عرض ہے کہ نماز ہو گئی یا نہیں؟ (۲) صبح کی نماز میں پہلی رکعت میں سورۂ قیامہ (پارہ تبارک الذی) ورکعت ثانی میں سورہ بقر (پارہ تلک الرسل) رکوع آخر لِلهِ مَا فِی السمواتِ الخ. پڑھا۔ چونکہ ترتیب بدل گئی اس لئے نماز ہوگئی یا نہیں؟ (۳)

جواب

نماز ہوگئی معنی ایسے نہیں بدلے کہ جس سے نماز فاسد ہو جائے۔ (۲) نماز ہو گئی لیکن قصداً ایسا کرنا مکروہ ہے ویکره الفصل بسورة قصيرة ويقرأ منكوساً در مختار هذا اذا كان قصداً واما سهواً فلا كبيرى ص ۴۶۲ - (۳) نیت باندھنے سے پہلے بسم اللہ پڑھنا ثابت نہیں۔ (۴) یہ لفظ مہمل ہو گیا نماز لوٹائی جاوے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو