پیش کی جگہ زبر یا ہ کی ح یا برعکس پڑھنا
سوال
(۱) اگر امام نے قراءت میں تحضون پیش کے بجائے زیر پڑھ دیا تو نماز ہو گئی یا نہیں؟ سوال: (۲) مثلاً جیسے انفسکم کے س پر پیش کے بجائے زبر پڑھا جائے تو اس حالت میں نماز ہوگی یا نہیں؟ سوال: (۳) اگر نماز میں لفظ صیح پڑھا مگر ادا زبان سے چھوٹی ہ کے بجائے بڑی ح کی آواز معلوم ہوئی، یا بڑی ح کے بجائے چھوٹی ہ کی آواز معلوم ہوئی تو اس حالت میں نماز ہوگی یا نہیں؟ سوال: (۴) اگر کچھ آیت پر سانس ٹوٹ جائے تو اس کی طرف لوٹ کر نہیں پڑھا تو اس حالت میں نماز ہوگی یا نہیں؟ سوال: (۵)
جواب
(۱) ہو گئی اس سے معنی نہیں بگڑے۔ (۲) اگر معنی نہ بگڑیں تو نماز فاسد نہیں ہو گی۔ (۳) اس کا جواب بھی (۲) کی طرح ہے۔ (۴) ہو گئی (۵) ہوگئی ہے
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔