الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تکبیرات انتقالیہ وتشہد میں زبر، زیر کی غلطی

سوال

فتاوی دار العلوم دیو بند از مفتی عزیز الرحمن صاحب میں ہے کہ زیر کی جگہ زبر یا برعکس پڑھنے سے نماز فاسد ہو جائے گی۔ دریافت طلب یہ ہے کہ ایسی غلطی سے صرف قراءت میں نماز فاسد ہوگی؟ ایک امام مقررہ سمع اللہ لمن حمدہ میں ع کو زیر کے ساتھ پڑھنے کے عادی ہیں اس سے نماز تو فاسد نہ ہوگی؟ اگر ایک بڑی آیت یا تین چھوٹی آیتوں کے بعد ایسی غلطی ہو جائے کہ زیر کی جگہ زبر پڑھا جائے یا کوئی اور ایسی غلطی ہو جائے جس سے معنی بگڑ جائیں تو کیا نماز فاسد ہو جائے گی؟ (الف)

جواب

مدار معنی بگڑنے پر ہے۔ بعض جگہ زیر زبر کی غلطی سے معنی بگڑ جاتے ہیں۔ تشہد اور تکبیر انتقال میں زیر زبر میں غلطی ہو جائے تو نماز فاسد نہیں ہوگی۔ قراءت میں تین آیات سے پہلے غلطی ہو یا بعد میں سب کا حکم ایک ہے۔ (الف) اس سے نماز فاسد نہیں ہوگی۔ (ب) قرآت کی غلطی سے اگر معنی بگڑ گیا تو نماز فاسد ہوگئی، تو پھر لقمہ یا بغیر لقمہ کے درست کر لینے سے صحیح نہ ہو گی۔ (ج)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو