ايضاً / ايضاً / ايضاً / ايضاً / نماز میں امام نے واللہ خیر الرازقین کی جگہ خیر الظالمین پڑھ دیا
سوال
نماز عشاء کی قراءت میں امام نے واللہ خیر الرازقین کی جگہ والله خير الظالمين پڑھا میں نے کہا کفریہ معنی ہو گئے نماز دہرائی جائے ممبران میں ایک صاحب بغیر ڈاڑھی والے نے کہا کہ نماز ہوگئی ان صاحب کا یہ فعل کیسا ہے؟ نیز امامت کے لئے انھوں نے کہنے سننے سے کچھ ڈاڑھی رکھ لی ہے کیا ان کے پیچھے نماز جائز ہے اور نماز عشاء جو دہرائی نہیں گئی اس کا کیا حکم ہے؟ میں نے اپنی نماز دہرائی تھی۔
جواب
فقہاء نے تصریح کی ہے کہ ایک لفظ کی جگہ دوسرا لفظ پڑھ دینے سے اگر معنی بگڑ جائے تو نماز فاسد ہو جاتی ہے فتاوی عالمگیری قاضی خان طحطاوی شامی ” البحر الرائق۔ سب میں اس کی تصریح موجود ہے۔خداوند تعالیٰ کو ظالم یا خیر الظالمین کہنا اور اعتقاد کرنا بالکل اسلامی عقائد کے خلاف ہے غلطی سے اس طرح پڑھ دینے کی وجہ سے کفر کا حکم نہیں دیا جائے گا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔