الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مثنوی کے چند اشعار

سوال

براہ لطف و کرم جواب سے مطلع فرمایا جائے، یہ کہ مثنوی میں جو اشعار لکھے ہیں، اس کا صحیح مطلب کیا ہے؟ چونکہ بے رنگی اسیر رنگ شد........ موسی با فرعون اسیر جنگ شد چون به بے رنگی رسی تو داشتن...... موسیٰ و فرعون کردا نداشتن تا به بحر نور خود راجع شدیم از رہائی اصل مترصع شدیم قرآن عظیم میں ”وَنَفَخَ فِيْهِ مِنْ رُوحِهِ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَة کا لفظ موجود ہے، حدیث پاک میں صراحتہ یہ عبارت موجود ہیکہ جب بندہ زنا کا مرتکب ہوتا ہے، تو روح اس کے جسم سے نکل کر سر پر سایہ کرتی ہے، یعنی اس کے اس…

جواب

مثنوی مولانا روم رحمۃ اللہ کو کسی روشن ضمیر عارف سے حل کیا جائے، وہ بھی بذریعہ تحریر نہیں بلکہ خود حاضر ہوکر، اس عاجز کو اتنی طاقت نہیں کہ ان اشعار کو حل کر سکے، میں نے وہ حدیث نہیں دیکھی جس میں یہ مذکور ہو کہ ارتکاب زنا کے وقت روح جسم سے نکل کر سر پر سایہ کرتی ہو، آپ اس کے الفاظ مع حوالہ لکھئے، ایمان کے نکلنے کا ذکر تو احادیث میں موجود ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو