حضرت نانوتوی کا ایک شعر
سوال
اسی طرح ایک شعر پر اور اعتراض ہوا ہے، ایک میلاد میں یہ شعر پڑھا گیا جو چھو بھی دیوے سگِ کوچہ تیرا اس کی نعش تو پھر تو خلد میں ابلیس کا بنائیں مزار اس پر یہ اعتراض کیا جا رہا ہے، کہ ابلیس کا کفر پر مرنا یقینی ہے، اور کفر پر مرنے والے کو کسی چیز کی شفاعت یا برکت جہنم سے نجات نہیں دے سکتی، جیسے وہ منافق جسے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پیراہن مبارک دیا، یہ چونکہ کفر پر مرا تھا، اس لئے کچھ نفع نہ ہوا، پھر ابلیس کی نعش کو جبکہ اس کا کفر پر مرنا یقینی ہے سگ مدینہ کا چھونا مفید نہ ہوگا، نیز جنت میں موت نہیں پھر…
جواب
یہ شعر بہت بڑے قصیدہ کا شعر ہے، جس شاعر نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت کہی ہے، وہ سارا قصیدہ عشق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ڈوبا ہوا ہے، اور اس عشق کا نتیجہ ہے کہ آپ کے دارالہجرت مدینہ منورہ سے بھی بڑی محبت ہے، اور مدینہ طیبہ کے جانوروں سے بھی محبت ہے حتی کہ وہاں کے کتوں کے مناقب میں بیان کیا ہے، کہ اگر ابلیس کو وہ چھودے یعنی ابلیس اس کی صحبت سے متاثر ہو جائے،…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔