موت وحیات سے متعلق ایک شاعرانہ تحقیق
سوال
زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب موت کیا ہے انہیں اجزاء کا پریشان ہونا کیا مذکورہ شعر کمیونسٹ نظریہ کی تائید نہیں کرتا، اگر کرتا ہے تو پھر اس شعر کو ایک پڑھے لکھے مسلم کو یہ سمجھ کر پڑھنا کہ جو چیز مذکورہ شعر میں بیان کی گئی ہے، عین حقیقت ہے۔ خلاصہ کلام: کیا مذکورہ شعر مسلم عقیدہ میں ضرب کاری نہیں لگاتا ہے، اگر یہ شعر مسلم عقیدہ پر غلط اثر ڈالتا ہے، تو اس صورت میں صحیح کہنے والے مسلم کو کیا سزا چاہئے؟
جواب
اس شعر میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے، وہ کوئی شرعی تحقیق نہیں، نہ شاعر نے اس کا دعویٰ کیا ہے کہ وہ شریعت کا مکلف ہے، پس اس کو حکم شرعی سمجھتے ہوئے بحث کرنا بے محل ہے، اس میں جو کچھ کہا گیا ہے، نظریہ اسلام کے تحت نہیں بلکہ یہ تو ان لوگوں کا نظریہ ہے، جو واجب الوجود کے لئے امہات الصفات تین جز میں مانتے ہیں، ایشور، وشنو، شیو، مرکب، محافظ مخرب یا محلل، ان کے نزدیک نیستی سے ہستی نہیں…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔