الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

احادیث میں جن باتوں پر شہادت کا وعدہ ہے وہ اگر فاسق میں ہوں تو؟

سوال

بہت سی احادیث میں ہے کہ اس بیماری سے مرنے والا یا فعل کا کرنے والا شہید کا اجر پاتا ہے: (۱) پانی میں ڈوب کر مرنے والا، حادثہ میں ہلاک ہونے والا، یا جل کر مرنے والا۔ (۲) وضو کی حالت میں مرنے والا، ان دو گروہوں میں مرنے والا اگر فاسق ہے یعنی کہ نماز روزہ اور گناہ کبیرہ کو کرنے والا، تو وہ قبر کے عذاب سے رہائی پائیگا؟ اور جنت میں شہیدوں کی جگہ میں جگہ پائے گا؟ آیا اگر وہ گروہوں میں مرنے والا صالح اور نیک ہے تو محض اسی کو یہ تین سعادتیں ملیں گی؟ یا فاسق کو بھی تین سعادتیں نصیب ہوں گی؟

جواب

اللہ تعالیٰ جس بندہ پر اپنی رحمت نازل کرنا چاہتا ہے تو اس کیلئے وہ کسی قانون کا پابند نہیں، وہ چاہے تو بڑے سے بڑے فاسق کے سارے گناہ معاف کر دے، بے تردد جنت میں بھیجدے، اور چاہے تو بہت چھوٹے سے عمل پر بہت بڑا اجر دیدے اور چاہے تو چھوٹی سی بات پر بھی گرفت کرے، اس کے یہاں دو قسم کی کچہری ہے ایک عدل کی ایک فضل کی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو