الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نو مسلم کو طعنہ دینا

سوال

ایک شخص اپنا مذہب چھوڑ کر جو اسلام کے اندر داخل ہوا اس کا کیا درجہ ہے جو شخص اس شخص پر طعنہ زنی کرتا ہے، کہ تیرے پیچھے نماز نہیں ہوتی اور یہ بھی لفظ کہا جاتا ہے، کہ تو چمار ہے اور کہیں چمار کے پیچھے بھی نماز ہوتی ہے، یہ بھی زبان سے کہہ گذرے ہیں کہ اگر سور کو پاک کرنا چاہیں تو وہ پاک نہیں ہو سکتا ہے اس لئے تو بھی پاک نہیں ہوا ہے اور اس کے علاوہ اور بھی چند جھوٹے الزام دیئے جاتے ہیں، اور یہ شخص مع جوتیوں کے مسجد پر چڑھ جاتا ہے، کہ مجھ کو میانجی منع کریگا اور ہم اس کو مار پیٹ کر کے نکال دیں گے۔

جواب

جو شخص نو مسلم کو طعنے دیتا ہے وہ کبیرہ گناہ کا مرتکب ہے اس کو اس نو مسلم سے معافی مانگنی چاہئے، اور توبہ کرنا واجب ہے اگر توبہ نہیں کر لیا اور معافی نہیں چاہے گا تو قیامت کو سخت عذاب میں گرفتار ہوگا۔ چمار ہو یا اور کوئی جب وہ مسلمان ہو گیا تو اس کے پہلے گناہ شرک وغیرہ سب چیزیں معاف ہو جاتی ہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو