الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

چھٹی کے ایام کی تنخواہ کا قانون

سوال

کوئی دینی ادارہ کوئی دینی محکمہ، اپنے ملازم کو اپنے دستور اور قانون سے اطلاع کئے بغیر کسی قانون کے زد میں لے کر نقصان پہونچا دے۔ مثلاً بڑی تعطیل کی تنخواہ ضبط کر دینا آیا یہ شرعی قانون ہے یا دنیوی، اگر دنیوی ہے اس کا دینی اداروں میں نفاذ کہاں تک صحیح ہے اور اگر شرعی ہے تو اس کی اصل کیا ہے محقق اور مفصل تحریر فرما دیں کہ دینی اداروں میں دنیوی قانون کا ٹھوکنا کیسا ہے؟

جواب

دینی خدمت تعلیم تدریس تبلیغ میں اصل یہ ہے کہ کوئی معاوضہ کسی سے نہ لینا چاہئے بلکہ کہہ دینا چاہئے کہ لا اسئلکم عليه مالاً ان اجرى الا على الله، لیکن اگر کسی کی ضروریات پوری نہ ہوتی ہوں تو اجرت لینے کی فقہائے متاخرین نے اجازت دی ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو