الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

رخصت اور تعطیل کلاں سے متعلق تنخواہ کا قانون

سوال

ایک شخص شروع محرم سے ایک ادارہ پر کام کر رہا ہے جس کا قانون یہ ہے کہ مدت ملازمت سے تین ماہ پورے ہونے سے قبل کسی رخصت کا استحقاق نہیں ہوتا ہے چنانچہ تین ماہ کے بعد حسب استحقاق انہوں نے رخصت لی۔ اتفاق اور بیماری کی وجہ سے اب مدرسہ کی مالی مجبوریوں کی وجہ سے حسب تجویز ناظم ادارہ اخیر میں دوسری جگہ منتقل ہو گئے دریافت طلب یہ امر ہے کہ اس مدت ملازمت کے اندر وہ شخص کل استحقاق رخصت کو استعمال کرنے کا مجاز ہے یا ان تمام حقوق کو سال یا تمام مدت تعلیم پر تقسیم کرنے کے بعد اسی لحاظ سے استحقاق کو استعمال کر سکتا ہے۔

جواب

حسب قانون ادارہ تین ماہ ملازمت پورے ہونے پر اتفاقیہ اور بیماری کی رخصت حاصل کرنے کا حق ہے اور سال پورا ہونے پر جس قدر کا حقدار ہوگا اس کو حاصل کر سکتا ہے لیکن سال پورا ہونے سے پہلے ملازمت کا تعلق ختم ہو جائے تو جس قدر رخصتیں بلا وضع تنخواہ حاصل کر چکا ہے اب اہل ادارہ ان کی تنخواہ وضع کریں گے اور جس قدر رخصتیں باقی ہیں ان کے عوض تنخواہ کا استحقاق نہیں ہوگا بلکہ وہ باقی رخصتیں…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو