الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

عرصہ تک ملازمت کرنے کے بعد معذور ہوا تو کیا وہ تنخواہ لینے کا حق دار ہے

سوال

زید نے عرصہ دراز تک بعوض تنخواہ ایک مدرسہ میں رہ کر درس کلام پاک کی تعلیم انجام دی، اب بوجہ سل بیمار و بزمانه پیر سالی مدرسہ مذکور کی کسی بھی قسم کی خدمت انجام نہیں دے سکتے، اب فرمائیے کہ اس صورت میں مدرسہ سے تنخواہ پانے کے مستحق ہو سکتے ہیں یا نہیں؟ (۲) زید مذکور اپنی عادت بد کی وجہ سے مدرسہ کے نظم میں خلل اندازی بھی کرتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے مدرسہ کے طلباء کی تعلیم و تربیت میں حرج لاحق ہوتا ہے۔

جواب

(۱) تنخواہ تو کام کا معاوضہ ہے، جب مدرسہ کا کوئی کام نہیں کرتے تو پھر تنخواہ کس بات کی ہے (۲) اس حالت میں ان کو چاہئے کہ وہ مدرسہ کا قیام ترک کر دیں، کارکنان مدرسه جوان کے تلامذہ ہیں وہ ادب و احترام کے ساتھ ان کو رخصت کر دیں اور ان کی جانی و مالی خدمت حسب استطاعت بحق شاگردی کرتے رہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو