الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مدرسی کی تنخواہ کا ناغہ کاٹنا

سوال

ایک شخص امامت و مدرسی پر ملازم ہے تنخواہ الگ الگ متعین نہیں۔ اس حالت میں مدرسہ کے ناغہ پر کیا کچھ کاٹنا ضروری ہے، یا منتظمین کی مرضی سے جائے تو کچھ نہ کٹے گا چاہے وہ تبلیغ میں جائے یا نجی ضرورت سے جائے۔منتظمین اجازت دیدیں اور کچھ تنخواہ نہ کاٹیں تو گنہ گار تو نہیں ہوں گے؟

جواب

مستقل معاملہ طرفین کی رضا مندی سے طے کر لیا جائے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو