یہ عورت بہنوئی کی ہے مجھ سے کوئی مطلب نہیں
سوال
شوہر نے اپنی زوجہ کو بوجہ تکرار کہا کہ یہ عورت بہنوئی کی ہے، (میری نہیں) مجھ سے کوئی مطلب نہیں، کوئی مطلب نہیں، کوئی مطلب نہیں، یہ اپنے گھر جاوے ہم اپنے گھر، اب لڑکی شوہر کے یہاں جانا نہیں چاہتی کہتی ہے کہ میں خود کشی کرلوں گی، مگر جاؤں گی نہیں، لڑکا بدمعاش ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ بالا الفاظ سے طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟
جواب
شوہر کے جو الفاظ سوال میں نقل کئے گئے ہیں ان میں کوئی لفظ صریح طلاق کا نہیں ہے، بلکہ کنایہ کے الفاظ ہیں، اگر شوہر نے کہتے وقت طلاق کی نیت کی تھی، تو طلاق بائن واقع ہو گئی اور اب اس کے ساتھ رہنے کا حق نہیں رہا، دونوں رضا مند ہوں تو دوبارہ نکاح کر لیا جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔