الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کچھ مطلب نہیں سے طلاق

سوال

ایک آدمی ہے، جس کا نام عباس ہے عباس نے اپنی بہن کی شادی دوسری جگہ کر دی حالانکہ اس کے بہنوئی نے طلاق نہیں دیا ہے، مگر پھر بھی اس غیر مطلقہ کا نکاح دوسری جگہ کر دیا، جس کی وجہ سے عباس کی بیوی شوہر سے ناراض ہو گئی، جب کہ اتنی حرام کاری کرتے ہو تو میں تمہارے یہاں نہیں رہوں گی، چنانچہ ناراضگی ہوگئی، اور بیوی اپنے باپ کے پاس چلی گئی، پھر عباس نے چاہا کہ بیوی کو بلاؤں مگر آنے کے لئے تیار نہیں، عباس نے اپنے خسر سے کہا اور مجمع عام میں کہا کہ تم چاہو بھیجو یا نہ بھیجو ہم سے تمہاری لڑکی کا اب کچھ مطلب نہیں ہے، تم اپنی لڑکی…

جواب

عباس نے اگر الفاظ مذکورہ طلاق کی نیت سے کہے ہیں تو ایک طلاق بائنہ واقع ہوگئی، طلاق سے تین ماہواری گزرنے پر عدت بھی ختم ہو گئی، اور دوسری جگہ نکاح کا بھی حق حاصل ہو گیا ہے بغیر طلاق کے جو دوسرے شخص سے نکاح کر دیا گیا ہے، وہ نکاح نہیں حرامکاری اور سخت وبال کی جڑ ہے، اس کی اصلاح ضروری ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو