فارغ خطی کا حکم
سوال
زید اور اس کی بیوی میں جھگڑا ہوا بیوی گھر سے نکل کر جانے لگی تو زید نے کہا کہ اگر گھر سے نکل کر جائے تو میں تجھے فارغخطی دیدوں گا، اس کے باوجود بیوی گھر سے نکل گئی دوسرے دن وہ اپنے شوہر کے گھر آئی زید نے کہا کہ تم چلی گئی تھیں اب کیوں آئی ہو اس بات پر بیوی نے کہا کہ ابھی تم نے فارغ خطی کہاں دی تو زید نے کہا اچھا جا فارغ خطی، فارغ خطی، فارغ خطی، اس صورت میں اس کی بیوی پر طلاق پڑی کہ نہیں، اگر پڑی تو کونسی؟ اور کونسا ایسا طریقہ ہے، کہ زید اور اس کی بیوی دونوں ازدواجی زندگی بسر کر سکیں؟
جواب
بہ نیت طلاق ایسا کہنے سے طلاق بائن واقع ہو گئی ہے ایک طلاق بائن کے بعد دوسری طلاق بائن واقع نہیں ہوتی در مختارے میں اس کی تصریح موجود ہے، لہذا طرفین کی رضا مندی سے دوبارہ نکاح درست ہو گا، خواہ عدت میں ہو یا بعد عدت۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔