زیور اتار کر واپس کرنے سے آزاد سمجھنا
سوال
محمد یوسف کی اپنے رشتہ داروں سے بدسلوکی ہوگئی، عرصہ دو سال کے بعد ناراضگی کی حالت میں جو زیورات دولہا کی طرف سے لڑکی کو دیئے گئے تھے، شوہر اپنی بیوی کے تن سے اتروا کر سسر کو دینے لگا کہ اپنا زیور سنبھالو میرا تمہارا کوئی رشتہ نہیں، کب ڈھول باجا ہوا اور کب گیت گال ہوئی، لہذا اس کہنے سے محمد یوسف کا نکاح باقی رہا یا نہیں؟ رواج ہے کہ ناچ رنگ نہ ہو اگر شادی میں تو زیور اتار کر واپس کرنے سے بیوی کو شوہر سے آزاد سمجھتے ہیں، لہذا جناب والا شرعی مسئلہ سے آگاہ فرمائیں۔
جواب
اگر واقعہ اسی طرح ہے تو مذکورہ نکاح شرعاً محمد یوسف کے ایسا کرنے اور کہنے سے ختم نہیں ہوا، بلکہ قائم ہے، محمد یوسف نے جو کچھ کہا اور کیا بے عملی اور نا واقفیت کی بناء پر ہے، باجہ خود ہی ممنوع ہے۔ اس کے نہ ہونے سے نکاح پر کیا اثر پڑتا ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔