الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تیری رہی سہی کو طلاق

سوال

ہمارے یہاں ایک شخص کو اپنی عورت کے ساتھ یہ معاملہ پیش آیا کہ عورت کہنے لگی کہ میں اپنے میکے جاؤں گی، شوہر نے کہا کہ میں جانے نہیں دوں گا، عورت جانے کے لئے بضد ہوگئی، اس پر شوہر کو غصہ آگیا اور یہ کہہ بیٹھا کہ اگر تو یہاں سے جا کر کہیں اور اچھی طرح سے رہی تو تجھے یہ کہہ کر رک گیا، پھر کہا ”تیری رہی سہی کو طلاق یہ دو مرتبہ کہا اور اس نے اس سے اس کو طلاق دینے کی نیت نہیں کی صورت مذکورہ میں طلاق ہوئی یا نہیں؟ اگر ہوئی تو کون سی؟ مع حکم تحریر فرمائیں۔

جواب

اگر وہاں کا عرف یہ ہے کہ بیوی کو اس طرح طلاق دیتے ہیں کہ تیری رہی سہی کو طلاق، تو دو طلاق رجعی شرط متحقق ہونے پر واقع ہو جائیں گی، پھر عدت تین ماہواری گزرنے سے پہلے شوہر کو رجعت کا حق حاصل ہوگا اگر رجعت نہ کی اور عدت ختم ہو گئی تو طرفین کی رضا مندی سے دوبارہ نکاح کی اجازت ہو گی حلالہ کی ضرورت نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو