خسر کولکھا” دوسرے داماد کیلئے عدت شمار کرے
سوال
اگر کوئی داماد اپنے خسر صاحب کو یہ لکھ کر خط بھیجے کہ آپ کی جو دولت ہے، اس دولت کا نصف حصہ اپنی لڑکی کے نام لکھ دیں، اگر نہ دیویں تو نمبر علیم جیٹھ سے دوسرے داماد کے لئے عدت شمار کرے۔“ مگر یہ خط صرف خسر کو ہمت دلالت نے کے لئے لکھا کوئی نیت نہیں کی، داماد کا خط پا کر خسر نے بھائی کے پاس ایک خط بھیجا کہ میں کچھ نہیں دوں گا، اس کے بعد شوہر نے بیوی کو سسرال بھیج دیا، مگر مذکورہ تاریخ سے پہلے شوہر نے غلط فہمی سے ایک نکاح پڑھایا اور بیوی کے ساتھ ولی بھی کی، اور وہ بیوی ابھی سسرال میں ہے، داماد وہاں چشم پوشی سے جا نہیں…
جواب
جب داماد نے اپنے خسر کو لکھا کہ اگر اپنی بیٹی کو نصف دولت فلاں تاریخ تک نہ دیں تو دوسرے داماد کے لئے عدت شمار کر لیں، اور اس سے طلاق کی نیت نہیں کی تو کوئی طلاق نہیں ہوئی، دوسری عورت سے نکاح کر لینے کی وجہ سے بھی پہلی بیوی کے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑا، اپنی بیوی کو طلاق کی نیت سے اگر یہ خط لکھا ہے، تو طلاق ہو گئی ہے پھر جب تین ماہواری بھی گزر گئی تو نکاح بالکل ہی ختم ہو کر وہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔