دو طلاق کے بعد کہا یہاں سے جاؤ اب تو چھوڑ دیانا
سوال
زید کی بیوی ہندہ اور اس کی ساس سے کسی بات پر تکرار ہوئی زید نے بیوی کو منع کیا کہ کیوں بلاوجہ تکرار کر رہی ہے، لیکن وہ نہ مانی، تو زید نے کہا کہ فلاں کی لڑکی کو طلاق طلاق، اس کے بعد زید نے اپنی بیوی سے دوبار یہ بھی کہا کہ یہاں سے جاؤ اب تو چھوڑ دیا نا، صورت مذکورہ میں کونسی طلاق واقع ہوئی؟
جواب
چونکہ یہ لفظ ہمارے اردو کے محاورہ میں صریح طلاق کے معنی میں ہے جیسا کہ مولانا عبدالحی صاحب لکھنوی نے مجموعہ فتاوی باج ارص ۳۲۹ ر میں تصریح فرمائی ہے، لہذا اس لفظ سے بھی طلاق واقع ہو کر ہندہ پر تین طلاقیں مغلظہ واقع ہوگئیں، اگر زید کہے کہ اس لفظ سے میرا مقصود پہلے دو طلاقوں کا بیان ہے، تو اس کا یہ کہنا دیانۃً ہوسکتا ہے لیکن قضاء تسلیم نہیں کیا جائے گا، اور چونکہ عورت مثل قاضی کے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔