الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

طلاق دیتا ہوں ایک بار نہیں ہزار بار کہتا ہوں“ کا حکم

سوال

عرصہ تین سال ہوا کہ زید نے کچھ خانگی الجھنوں میں آکر چند عورتوں کے نزدیک اپنی بیوی ہندہ کے بارے میں کہا کہ میں ہندہ کو طلاق دیتا ہوں، اور یوں بھی کہا کہ ایک بار نہیں ہزار بار کہتا ہوں، اور پھر افسوس ظاہر کرنے لگا، لہذا زید کے گھر سے ہندہ اپنے میکہ بھی چلی گئی، اور ہندہ کے والدین سامانِ جہیز اور دین مہر وغیرہ کا مطالبہ زید سے بذریعہ پنچایت کرنے لگے مگر کچھ روز تک زید نے ٹال مٹول ضرور کیا ہے اور اسی عرصہ میں زید نے اپنا نکاح دوسری جگہ کر لیا، لہذا نکاح کی خبر پاتے ہی ہندہ زید کے گھر چلی آئی، اور ایک ہفتہ زید کے گھر…

جواب

شوہر کے دو جملے نقل کئے گئے ہیں، ایک یہ کہ میں ہندہ کو طلاق دیتا ہوں اس جملہ سے ہندہ پر ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی، اندرون عدت اس طلاق سے رجعت کا شوہر کو حق حاصل ہے، دوسرا جملہ ایک بار نہیں ہزار بار کہتا ہوں اس میں ایک بار اور ہزار بار سے مراد اگر طلاق ہے اور شوہر کا مقصد یہ ہے کہ میں نے پہلے جملہ سے طلاق دی ہے، اس کو ہزار بار کہتا ہوں، ہاں میں نے طلاق دے دی، مجھے اس طلاق سے…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو