الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

صاف طلاق سے تین طلاق مراد لینا

سوال

ہمارے یہاں ایک شخص نے اپنی بیوی کو بائیں لفظ طلاق دی کہ تو صاف طلاق ہے ہمارے یہاں کے عوام کے عرف میں صاف طلاق سے مراد اور مطلب تین طلاق ہوتا ہے، یہاں تک کہ اگر طلاق دینے والے سے بھی صاف طلاق کا مطلب پوچھا جائے تو وہ جواباً کہتا ہے کہ صاف طلاق سے میرا مطلب تین طلاق ہے، بناء علیہ بعض علماء کہتے ہیں کہ ہمارے یہاں اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو لفظ صاف طلاق دیدے گا اور کوئی عدد بیان نہیں کرے گا، تب بھی تین طلاق مغلظہ واقع ہو جائے گی، وہ دلیل دیتے ہیں کہ ”المعروف کالمشروط“ اور بعض علماء کہتے ہیں کہ فقط لفظ صاف طلاق سے تین…

جواب

یہ لفظ تو صاف طلاق ہے ہمارے محاورہ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ گول مول لفظ نہیں ہے، جس میں طلاق کا مطلب بھی نکل سکتا ہے اور دوسرا مطلب بھی نکل سکتا ہے، بلکہ قطعی طور پر صرف طلاق کا مطلب ہے، اس لفظ سے تین طلاق مراد لینا یہاں کا محاورہ نہیں جس علاقہ میں اس سے تین طلاق ہی مراد ہوتی ہے وہاں کے علماء اہل فتویٰ سے رجوع کیا جائے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو