الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بیوی کے ایک عضو کو طلاق دینا

سوال

بکر اور زینب میں جھگڑا ہوا زینب نے بکر سے کہا کہ اگر مجھ کو گالی دو گے تو میں میکہ چلی جاؤں گی، بکر بہت غصہ ہوا اور زینب سے کہا (جو دو مہینہ کی بچہ کی ماں ہے) تیری گانڈ پر طلاق ہے طلاق ہے، اب چلی جا تجھ کو طلاق ہو گیا، اس وقت زینب طلاق سمجھ کر بکر سے علیحدہ ہوگئی، بکر نے طلاق دیتے وقت کوئی گواہ مقرر نہیں کیا، کیا اس میں مراجعت کی گنجائش ہے؟

جواب

شوہر کے پہلے لفظ سے کوئی طلاق نہیں ہوئی، یہ مہمل ہے، دوسرے لفظ کو بھی اگر پہلے ہی لفظ پر مرتب کیا ہے مستقل نہیں کہا تو اس سے بھی طلاق نہیں ہوئی، اگر اس دوسرے لفظ (طلاق ہے) کو مستقل کہا ہے تو اس سے ایک طلاق رجعی ہوگی، پھر تیسرے لفظ (اب چلی جا تجھ کو طلاق ہو گیا)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو