الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

طلاق رجعی، بائن، مغلظہ کا فرق

سوال

ایک شوہر نے رمضان شریف میں شام کے وقت روزہ کی جھانجھ میں جھگڑے ولڑائی کے بعد اپنی عورت کو تین مرتبہ یہ الفاظ کہے کہ میں نے تجھ کو آزاد کیا اور پھر یہی الفاظ ایک تیسرے شخص کے سامنے بھی دریافت کرنے پر تین مرتبہ کہے آیا اس صورت میں طلاق پڑ گئی یا نہیں اگر طلاق پڑ گئی ہے تو کس قسم کی آیا رجعی یا بائن یا مغلظہ ہوئی اور عورت حاملہ ہے تو عدت کتنے روز تک ہو گی نیز طلاق رجعی وبائن ومغلظہ کی صاف وضاحت فرمائیے کہ نتیجہ میں تینوں میں کیا فرق ہے۔ بینوا وتوجروا۔

جواب

ہمارے عرف میں شوہر کی طرف سے بیوی کے حق میں یہ الفاظ کہ میں نے تجھ کو آزاد کر دیا، بمنزلہ صریح طلاق کے ہیں جن سے بلانیت بھی طلاق ہو جاتی ہے، اور تین مرتبہ کہنے سے مغلظہ ہو جاتی ہے، پس صورت مسئولہ میں اس عورت پر طلاق مغلظہ واقع ہوگئی اور اس کا حکم یہ ہے کہ حلالہ کرے یعنی عدت ختم ہونے پر عورت کسی دوسرے شخص سے باقاعدہ نکاح کرے اور وہ شخص نکاح کے بعد اس سے صحبت کرے پھر اگر طلاق…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو