الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

میں نے طلاق دی میرے خدا نے طلاق دی

سوال

زید نے اپنی بیوی سے حالت سہولت میں یہ الفاظ استعمال کئے، کہ میرے بس کا تجھ کو رکھنا نہیں ہے، میں نے طلاق دی، میرے خدا نے دی یہ جملہ اس نے ۶ /۷ چھ سات مرتبہ کہا یہ جملہ ایسے موقعہ پر کہا ہے جب کہ چند آدمی وہاں پر موجود تھے، بلکہ ان آدمیوں نے زید سے کہا کہ تو اپنی بیوی کو طلاق نہ دے، اس کو روٹی کپڑا دے اس پر زید نے کہا میں رکھنا نہیں چاہتا، تم اس کو لے جاؤ اور اپنے یہاں رکھو اس کو روٹی کپڑا دو میں اس کو اپنے یہاں نہیں رکھوں گا، ایسی صورت میں طلاق ہوئی یا نہیں، اگر ہوئی تو رجوع کر سکتا ہے، یا نہیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں شرعاً طلاق مغلظہ واقع ہوگئی رجوع کرنے کا حق نہیں رہا، نہ دوبارہ نکاح درست تا وقتیکہ حلالہ نہ ہوجائے، یہ حکم اس وقت ہے کہ ہم بستری یا خلوت صحیحہ ہو چکی ہو، ہم بستری یا خلوت صحیحہ کی نوبت نہ آئی ہو تو صرف ایک طلاق بائنہ واقع ہوئی، جسمیں رجعت کا حق نہیں البتہ طرفین کی رضا مندی سے بلا حلالہ نکاح درست ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو