طلاقہ کی طلاقہ طلاق طلاق کا حکم
سوال
میری والدہ صاحبہ نے مجھ سے کہا کہ اس طلاقہ کی طلاقہ کو طلاق دیدو، تو میں نے فوراً غصہ میں کہا طلاقہ کی طلاقہ طلاق طلاق اس کے علاوہ اور میں نے کچھ نہیں کہا، براہ کرم آپ مطلع فرماویں کہ طلاق ہو گئی کہ نہیں؟
جواب
ایسا کہنے سے شرعاً دو طلاق واقع ہوگئیں، اس میں عدت (تین حیض) گذرنے سے پہلے شوہر کو رجعت کا حق ہے جس کی بہتر صورت یہ ہے کہ زبان سے کہدے کہ میں نے اپنی طلاق واپس لی تو نکاح بدستور قائم رہے گا لیکن پھر اگر ایک دفعہ بھی طلاق دے گا تو یہ حق باقی نہیں رہے گا، بلکہ مغلظہ ہو جائے گی، اور بغیر حلالہ کے کوئی صورت جواز کی نہ ہوگی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔