الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تیری لونڈیا کو طلاق

سوال

ایک شخص اس کے سسر اور ساس نے یہ نہیں کہا کہ ہماری لڑکی کو طلاق دیدو بلکہ یہ کہا کہ تیری بہن پر طلاق، تیری ماں پر طلاق، اس لڑکے نے چار بار طلاق طلاق طلاق طلاق کہا، اور آخر میں یہ بھی کہا کہ تیری لونڈیا کو طلاق، ساس کی تین لڑکیاں ہیں جو کہ شادی شدہ ہیں، کسی کا نام لے کر نہیں کہا، اور نہ دل سے کہا اور نہ طلاق دینے کی نیت تھی، کہنا تو یہ چاہتا تھا کہ تمہاری بہن یا تمہاری ماں پر طلاق، جیسے کہ انہوں نے کہا تھا مگر نام آگیا، لونڈیا کا اس کے بعد لڑکا خاموش ہو گیا، اور اس واقعہ کے دو چار گواہ بھی ہیں؟

جواب

اس لفظ سے ”تیری لونڈیا کو طلاق ایک طلاق تو ہو ہی گئی اگر چہ اس کے سسر کی کئی لڑکیاں ہیں، مگر طلاق اس لونڈیا کو دے سکتا ہے جو اس کے نکاح میں ہے، لہذا بغیر نام لئے بھی اس کی بیوی پر طلاق ہو گئی اس سے پہلے چار بار طلاق، طلاق، طلاق، طلاق، کہا ہے تو اس میں اس نے نہ بیوی کا نام لیا نہ خطاب کیا نہ اس کی طرف کسی طرح اشارہ کیا اور وہ قسم کھا کر کہے کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کے…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو