عدت میں مکرر طلاق
سوال
زید نے تقریباً عرصہ ۴ / ماہ کا ہوا اپنی زوجہ ہندہ کو بحالت غصہ وجھگڑا معاملات خانگی دو مرتبہ یہ الفاظ کہے کہ میں تجھ کو طلاق وآزاد کر چکا ہوں، اور اس حالت کے بعد زید نے ان الفاظ کی تصدیق ایک دو شخص سے کی لیکن آج تک ہندہ زید کے گھر موجود ہے، وتعلقات زن وشوہر باہم فریقین میں قائم ہیں، مسماۃ ہندہ کو طلاق ہو چکی تھی، یا نہیں؟ اگر ہو چکی تو دوبارہ قیام رشتہ کی کیا صورت ہے؟
جواب
لفظ” آزاد کر چکا بمنزلہ صریح ہے اس سے طلاق رجعی واقع ہوتی ہے اور لفظ طلاق سے بھی رجعی واقع ہوتی ہے، اور دو مرتبہ طلاق دے کر عدت کے اندر رجعت کا اختیار حاصل ہوتا ہے، لہذا دو مرتبہ طلاق کے بعد جب ایک دو شخص نے اس کی تصدیق کی ہے اگر اس نے نئی طلاق کی نیت نہیں کی، بلکہ پہلی طلاق کی خبر دی ہے تو عدت کے اندر رجعت کرنا جائز ہے، اور عدت کے بعد نکاح کرنا ہوگا، اور اگر نئی طلاق مراد لی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔