الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

الگ الگ مجلس کے اقرار کے گواہوں سے طلاق

سوال

محمد طیب کا بیان ہے کہ میں نے وسیلہ خاتون کو طلاق نہیں دی، وسیلہ خاتون کا بیان بھی محمد طیب کے مکان پر یہی تھا، کہ مجھ کو طلاق نہیں دی لیکن اپنے گھر جانے پر جو کہ دو میل ہے وسیلہ خاتون سے جب کہ اس کو اپنے ماں باپ کے یہاں گئے ہوئے پندرہ یوم سے زائد ہو گئے تھے، حسب ضرورت دریافت کیا گیا، تو وہ کہتی ہے کہ مجھ کو ایک دفعہ کوٹھری سے نکل کر محمد طیب نے کہا کہ میں نے طلاق دیدی، اس کے کچھ دیر کے بعد دستی نل کے پاس کہا کہ میں نے طلاق دیدی، کہ دیا اس کے کچھ دیر بعد کہا کہ میں نے طلاق دیدی، لیکن کسی گواہ کی موجودگی میں ثابت…

جواب

جس طرح طلاق دینے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے، اسی طرح طلاق کا اقرار کرنے سے بھی طلاق کا حکم کر دیا جاتا ہے۔ اگر موقع کا گواہ کوئی نہیں ہے، لیکن اقرار طلاق ایک مرد اور دوعورتوں کی گواہی سے ثابت ہے، اور یہ معتبر ہیں تو ان کی گواہی سے بھی شرعی ثبوت حاصل ہو جائے گا اور طلاق کا حکم کر دیا جائے گا، اور جیسی طلاق کی گواہی دیں، ویسی طلاق کا حکم ہوگا، اگر چہ یہ گواہ ایک مجلس کے اقرار کے…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو