الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

صیغہ حال سے طلاق

سوال

زید نے اپنی زوجہ مسماۃ ہندہ کو بائیں لفظ کہ تم کو طلاق دیتے ہیں، طلاق دیتے ہیں، طلاق دیتے ہیں، کہدیا تو اس صورت میں طلاق واقع ہوئی یا نہیں، اگر ہو گئی تو کسی قسم کی رجعی یا بائن یا مغلظہ از روئے شرع شریف ذیل میں تحریر فرما دیا جائے؟

جواب

یہ لفظ کہ تم کو طلاق دیتے ہیں حال کا صیغہ ہے اور صیغہ حال سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے، پس تین مرتبہ کہنے سے مغلظہ ہوگئی، بغیر حلالہ کے رکھنا صحیح نہیں” وفي المحيط لوقال بالعربية اطلق لا يكون طلاقاً الا اذا غلب استعماله للحال فيكون طلاقاً اھ عالمگیری، ص ۴۰۲ – اگر وہاں کے عرف میں یہ لفظ حال میں اکثر مستعمل ہوتا ہے تو ان الفاظ سے حسب تصریح مفتی صاحب تین طلاق واقع ہونگی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو