الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

طلاق دیدے کے جواب میں کب کی دیدی”

سوال

زید کی بیوی جھگڑا کر کے مدت ہوئی اپنے میکہ چلی گئی، زید اسکی وجہ سے افسردہ خاطر رہتا ہے، زید نے دو تین بار طلاق دینے کا بھی اظہار کیا ہے، زید ایک بار اپنے دوست عمر کے پاس آیا، عمر نے زید کو پریشان دیکھ کر کہا بھئی ایسے پریشان ہو رہے ہو تو بیوی کو طلاق دیدو، زید نے کہا ”کب کی دیدی ہے“ عمر نے ٹوکا ایسے الفاظ کہتے ہو تو مطلقہ ہو جائیگی، میں تحقیق کرونگا، زید نے کہا نہیں نہیں اس سے طلاق نہ ہوگی، یہ بات مد نظر رہے کہ زید نے اپنی بیوی کو اس مجلس سے پیشتر طلاق نہیں دی ہے، اور عمر کے سامنے صراحۃً جھوٹ بولا تھا، اس کا ثبوت…

جواب

زید کے اس (جھوٹے (اقرار سے بھی طلاق رجعی واقع ہوگئی ہے تین ماہواری گزرنے سے پہلے پہلے اس کو حق ہے کہ رجعت کر لے، عمر وغیرہ کے سامنے کہدے کہ میں نے اپنی طلاق واپس لے لی، اگر تین ماہواری گزر چکی ہوں تو بیوی کی رضامندی سے دوبارہ نکاح کی اجازت ہے، حلالہ کی ضرورت نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو