الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

”تو سمجھ لے کہ دی“سے طلاق

سوال

زید نے دوسری شادی کر لی، ایک روز پہلی بیوی کے ساتھ جھگڑا ہوا، اس وقت زید کی بھابھی بھی وہاں موجود تھی، زید نے کہا کہ میں تم سے عاجز ہو گیا ہوں میں تجھے چھوڑ دونگا، اس کے جواب میں بیوی نے کہا کہ میں بھی تم سے تنگ آگئی ہوں، اس پر زید نے کہا کہ جاتو یہ سمجھ لے کہ میں نے تجھے طلاق دی، اس کے بعد جھگڑا ہوتا رہا، اور اس دوران میں زید نے کئی مرتبہ پھر یہی الفاظ کہے کہ جا تو یہ سمجھ لے کہ دی، جا تو یہ سمجھ لے کہ دی، اس عرصہ میں دو تین آدمی اور آگئے، بیوی نے ان دو آدمیوں کے سامنے یہ واقعہ دہرایا کہ زید نے مجھے ایسا کہا ہے،…

جواب

اگر زید کا یہ مطلب تھا کہ جا تو یہ سمجھ لے کہ میں نے تجھے طلاق دی مگر تیرے سمجھنے سے کیا ہوتا ہے میں نے طلاق نہیں دی اور زید اس پر حلف کرلے تو زید کا قول معتبر ہوگا، اور طلاق کا حکم نہیں کیا جائے گا، ورنہ طلاق کا حکم ہو جائے گا، اور قرینہ بھی یہی ہے کیونکہ ایسا کہنے کے بعد زید نے اس سے کوئی تعلق نہیں رکھا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو