الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

الفاظ طلاق عربی میں کہلوانا جن کے معنی نہ جانتا ہو

سوال

ایک شخص نے کسی آدمی سے یہ الفاظ کہلوائے: اطلق زوجى طلقاً واحداً اوثانياً اوثالثاً. لیکن ان الفاظ کے معنی اسکو معلوم نہیں، پھر معانی بتلا دیئے گئے تو پھر اس نے ان الفاظ کو کہا اور اسکی نیت طلاق دینے کی نہیں تھی، تو کیا اس صورت میں طلاق واقع ہو جائیگی؟

جواب

اگر وہ شخص ان الفاظ کا ترجمہ نہیں جانتا مگر یہ جانتا ہے کہ ان الفاظ سے طلاق دی جاتی ہے، تو اس صورت میں طلاق واقع ہو جائیگی لیکن جب اس کو معنی بھی بتلا دیئے گئے، اور جان کر سمجھ کر پھر یہ الفاظ کہے تو اب وقوع طلاق میں کیا شبہ ہے، نیت کی حاجت نہیں، ہاں اگر بالکل محل استعمال اور معنی سب سے ہی نا واقف ہو، کچھ خبر ہی نہ ہو تو پھر طلاق نہیں ہوگی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو