صیغہ حال سے طلاق
سوال
احقر کشمیر کے ایک دور افتادہ پہاڑی علاقہ کا باشندہ ہے جو وادی سے دوسوکلو میٹر دور ہے، علاقہ کی بولی بھی وادی کی بولی سے جدا گانہ ہے، یہ علاقہ قلیل کے نام سے جانا جاتا ہے،اس میں ۲۸/۲۷ گاؤں ہیں لوگ نسلاً سب مسلمان ہیں، احقر رمضان المبارک میں گھر گیا تو برادری کے ایک آدمی نے اپنی بیوی کے بارے میں ایک جملہ کہا تھا، مس، نبسہ، بہت، نہم نہیں، جس کا ترجمہ یہ ہے میں اسے چھوڑ رہا ہوں بیوی سامنے تھی یہ جملہ ایک ہی مجلس میں تین دفعہ کہا تھا، یہ جملہ بیوی کے بارے میں اگر ہمارے یہاں کہے تو طلاق ہی مراد لیتے ہیں، اور اگر کسی…
جواب
ہمارے عرف میں جب شوہر اپنی بیوی کے حق میں کہتا ہے کہ میں اسے چھوڑ رہا ہوں، تو عامہ اس سے مراد یہی ہوتی ہے کہ میں اسے طلاق دے رہا ہوں، لہذا اس لفظ سے بلانیت بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے، اور تین دفعہ کہنے سے طلاق مغلظہ واقع ہو جاتی ہے، پھر بغیر حلالہ کے دوبارہ نکاح جائز نہیں ہوتا ہے جو نکاح دوبارہ کیا جائے،حلالہ سے قبل وہ شرعی نکاح نہیں، ان دونوں کے درمیان جدائی لازم ہے، مسئلہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔