الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اگر پہلے طلاق نہیں دی تو اب دی دی

سوال

آج سے چار مہینہ قبل میں نے اپنی دونوں بیویوں کو طلاق دی، ایک” تم دونوں کو طلاق کہہ کر طلاق دی، میں نے اس کے بارے میں فتویٰ لیا تھا، تو جواب دیا گیا کہ رضا مندی ہونے پر عدت میں رجوع کر سکتے ہیں، اس کے بعد میری ایک گھر والی اپنے رشتہ داروں میں چلی گئی، چار مہینہ بعد میں اسے لینے گیا، اور انہوں نے گرما گرمی سے کہا کہ تم نے جب اسے طلاق دیدی تھی تو اسے کیوں لینے آئے؟

جواب

جب اپنی دو بیوی کو ایک بار کہا کہ تم دونوں کو طلاق تو دونوں پر ایک ایک طلاق ہو گئی، جس میں رجعت کا حق حاصل تھا، حق رجعت عدت کے اندر ہوتا ہے، عدت تین ماہواری ہے، اگر تین ماہواری آنے سے پہلے رجعت نہیں کی تو بائنہ ہوگئی، اب جب تک بیوی کی رضامندی سے دوبارہ نکاح نہ ہو تو اسکے لانے اور کہنے کا حق نہیں، وہ بالکل غیر ہوگئی، اگر تین ماہواری آنے سے پہلے رجعت کر لی یعنی اسطرح کہہ دیا کہ…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو