دوسری رکعت پڑھ کر قیام پھر فورا ہی قعود کیا مفسد صلوٰۃ ہے
سوال
چار رکعت والی نماز میں اگر امام صاحب قعدہ اولیٰ نہ کر کے بالکل کھڑا ہو جائے اور پھر قعود کی طرف لوٹ آئے اور بعد میں سجدہ سہو بھی ادا کرے تو کیا نماز صحیح ہو جائے گی یا نہیں اگر صحیح ہو جائے تو کتب فقہ کی یہ تصریح کہ فسدت صلوته على الصحيح كمافي الحاشية نور الايضاح كنز الدقائق وغیرہ اور بعض کتابوں کے اندر بطلت صلواته كمافي القدوری اس کی کیا صورت ہے اور کیا جواب ہے اور اگر صحیح نہ ہو تو بعض کتب فقہ کے اندر بلا کراہت نماز جائز ہے کہنے کی کیا وجہ ہے۔ کمافی فتاوی رحیمیہ۔
جواب
وان عاد الساهى عن القعود الاول اليه بعد ما استتم قائما اختلف التصحيح في فساد صلاته وارجحهما عدم الفساد لان غاية مافي الرجوع الى القعدة زيادة قيام في الصلواة وهو وان كان لا يخل لكنه بالصحة لا يحل لان زيادة مادون ركعة لايفسد وقد يقال انه نقص للاكمال فانه اكمال لانه لم يفعله الا لاحكام الصلوة.
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔